بیان کرنے کے بعد حضرتِ عبدالرحمن بن عَوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے فرمایا :اے عبدالرحمن!( میں نے دیکھاکہ) تم مجھ سے بَہُت دُور ہوگئے یہاں تک کہ مجھے تمہاری ہلاکت کا خَدشہ ہونے لگا پھر کچھ دیر بعد تم پسینے میں شَرابور مجھ تک پہنچے تو میرے پوچھنے پر تم نے بتایا: مجھے حساب کے لیے روک لینے کے بعد مجھ سے پوچھ گچھ شُروع ہوگئی کہ مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟راوی کہتے ہیں ، حضرتِ عبدالرحمن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ یہ سُن کر رو پڑے اور عرض کی: یَارَسُولَ اللہ! یہ سو اُونٹ جو آج ہی رات مِصر سے مالِ تجارت سَمیت آئے ہیں، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو گواہ بنا کر انہیں مدینۂ پاک کے غریبوں اوریتیموں پر صَدَقہ کرتا ہوں۔ (تاریخ دِمشق ج۵۳ ص ۶۶۲)حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمن بن عَوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اُمُّ الْمؤمِنین حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ سَلَمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی خدمت میں عرض کی : مجھے اندیشہ ہے کہ کثرت ِ مال کہیں (آخرت میں) مجھے ہلاکت میں نہ ڈال دے !انہوں نے فرمایا : اپنا مال راہ ِ خدا میں خرچ کرتے رہا کرو۔ (الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، ج۲ ص۹۸۳)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یقینی قَطعی حلال مال رکھنے والے اپنا مالِ حلال دونوں ہاتھوں سے راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ میں لٹانے والے کے حسابِ قیامت کی اس لرزہ خیز حکایت پر نظر رکھتے ہوئے مال داروں کو غور کرنا اور قِیامت کے ہو شرُبا اَھوال (یعنی دہشتوں او ر گھبراہٹوں) سے ڈرنا چاہئے اور جو لوگ محض دُنیوی حِرص کے سبب مال اِکٹھا