روکاجائے گا کیونکہ حساب کے بعد نَجات ہوگی یا سختی۔ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ نبیِّ اکرم، نُورِ مُجَسَّم،شاہِ بنی آدم ، نبیِّ مُحتَشَم،شافِعِ اُمَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :’فُقَراء مُہاجِرین ،مالدار مُہاجِرین سے پانچ سو سال پہلے جنَّت میں جائیں گے۔ (تِرمِذی،ج۴ ص ۷۵۱،حدیث۸۵۳۲) (ماخوذاً اِحیاءُالعُلوم، ج۳ ص۲۳۳)
مجھ کو دنیا کی دولت نہ زَر چاہئے
شاہِ کوثر کی میٹھی نظر چاہئے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سواونٹ صدقہ کردئیے
عَشَرَۂ مُبشَّرہ کے روشن ستارے حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمن بن عَوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جو کہ صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں سب سے زیادہ مالدار تھے، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا سارا ہی مال یقینی طور پر حَلال تھا اورکثر تِ مال غفلت شعاری کے بجائے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے لیے خشیتِ الٰہی کا سبب بن گئی تھی۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے حسابِ قیامت کی حِکایت بھی سراپا عبرت ہے ، ملاحظہ فرمایئے چُنانچِہ ایک بار سرکارِعالی وقار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے پاس تشریف لا کر فرمایا :’’ اے اصحابِ محمد! آج رات اللہ تَعَالٰی نے جنَّت میں تمہارے کان اور منزلیں نیز میرے مکان سے کس کا مکان کتنا دُورہے سب مجھے دکھائے ۔ ‘‘ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جلیل القدر اصحابِ کرام کی منزلیں فرداً فرداً