کے باعث اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نیک بندے دُنیا اور اس کے مال ومَتاع سے آلُودہ ہونے سے ڈرتے ہیں ،وہ فَقَط ضَرورت کے مطابِق مختصر سے مالِ دُنیا پرقَناعت کرتے ہیں اوراپنے مال سے طرح طرح کے اچّھے کام کرتے ہیں۔ حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمدبن محمدبن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی نیک بندوں کے کثرتِ مال سے بچنے کی کیفیت بیان کرنے کے بعد عام مسلمانوں کو’’ نیکی کی دعوت ‘‘ دیتے ہوئے فرماتے ہیں:آپ کو اُن نیک لوگوں کے طریقے کو اختیار کرنا چاہئے،اگر اس بات کوآپ اِس لئے تسلیم نہیں کرتے کہ آپ اپنے خیال میں پرہیزگار اور نہایت ہی محتاط ہیں اورصرف حلال مال کماتے ہیں اور کمانے سے مقصود بھی محتاجی اورسُوال سے بچنا اور راہِ خدا میں خَرچ کرنا ہے اورآپ کا ذِہن یہ بنا ہوا ہے کہ میں اپنا حلال مال نہ توگناہوں میں صَرف کرتا ہوں نہ ہی اِس سے فُضُول خَرچی کرتا ہوں نیز مال کی وجہ سے میر ا دل اللہ عَزَّ وَجَلَّ َّ کے پسندیدہ راستے سے بھی نہیں بدلتا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ میرے کسی ظاہِر اور پوشیدہ عمل سے ناراض بھی نہیں ہے، اگرچِہ ایسا ہونا ناممکِن ہے۔باِلفَرض ایسا ہو تب بھی آپ کو چاہئے کہ صِرف ضَرورت کے مطابِق مال پرہی راضی رہیں اور مال داروں سے علیٰحِدگی اختیار کریں،اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگاکہ جب ان مالداروں کو قِیامت میں حساب کیلئے روکا جائے گا توآپ پہلے ہی قافلے کے ساتھ سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پیچھے پیچھے آگے بڑھ جائیں گے اورآپ کو حساب و کتاب اورسُوالات کے لیے نہیں