حکم دیا (میں نے اُسے دیا)۔
پھر وہ سب لوگ آئیں گے اور اس سے جھگڑا کریں گے، وہ کہیں گے: اللہ عَزَّ وَجَلََّّ! تُو نے اسے مال عطا کیا اور مال داربنایااور اسے حکم دیا کہ وہ ہمیں دے اور ہماری مدد کرے۔ اب اگر اس نے ان کو دیا ہوگا،اور فرائض میں کوتاہی بھی نہیں کی ہوگی، تکبُّر اور فخر بھی نہیں کیا ہوگا پھر بھی کہا جائے گا رُک جا!میں نے تجھے جو بھی نعمت عنایت کی تھی، خواہ وہ کھانا تھا،پانی تھا یا کوئی سی بھی لذّت ، ان سب کا شکر ادا کر،اِسی طرح سُوال پر سُوال ہوتا رہے گا۔(اِحیاءُالعُلوم، ج۳ ص۱۳۳ )
سُوال اُس سے ہو گاجس نے حلال کمایا ہو گا
شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ اپنے رسالے ’’خزانے کے انبار‘‘ کے صفحہ 15پر لکھتے ہیں:یہ روایت نقل کرنے کے بعد سیِّدُنا امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی نے جو کچھ فرمایا ہے اُس کو اپنے انداز میں عَرْض کرنے کی سعی کرتا ہوں:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بتایئے! اِن سُوالات کے جوابات دینے کے لیے کون تیار ہوگا؟سُوالات اُس آدَمی سے ہوں گے جس نے حلال طریقے پر کمایا ہو گا نیزتمام حُقُوق اور فرائض بھی کما حَقُّہٗ(مکمَّل طور پر) ادا کیے ہوں گے۔جب ایسے شخص سے یہ حِساب ہوگا تو ہم جیسے لوگوں کا کیا حال ہوگا جو دُنیوی فِتنوں،شُبہوں، نفسانی خواہشوں ،آرائشوں اور زینتوںمیں ڈوبے ہوئے ہیں ! ان سُوالات ہی کے خوف