Brailvi Books

حرص
190 - 228
 اِحیاءُ الْعُلُوم کی تیسری جلد میں نَقل کرتے ہیں:قِیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا جس نے حرام مال کمایا اور حرام جگہ پرخَرچ کیا، کہا جائے گا:اسے جہنَّم کی طرف لے جاؤ اور ایک دوسرے شخص کو لایا جائے گا جس نے حلال طریقے سے مال کمایا اور حرام جگہ پر خَرچ کیا، کہا جائے گا:اسے بھی جہنَّممیں لے جاؤ،پھر ایک تیسرے شخص کو لایا جائے گا جس نے حرام ذرائِع سے مال جَمع کرکے حلال جگہ پرخَرچ کیا، کہا جائے گاـ:اسے بھی جہنَّممیں لے جاؤ پھر(چوتھے) ایک اور شخص کو لایا جائے گا جس نے حلال ذرائِع سے کما کر حلال جگہ پر خَرچ کیا، اُس سے کہا جائے گا: ٹھہر جاؤ! ممکِن ہے تم نے طلبِ مال میں کسی فرض میں کوتاہی کی ہو، وقت پر نَماز نہ پڑھی ہو، اور اس کے رُکوع وسُجُود اور وُضو میں کوئی کوتاہی کی ہو! وہ کہے گا: اللہ عَزَّ وَجَلََّّ!میں نے حلال طریقے پر کمایا اور جائز مَقام پرخَرچ کیا،اور تیرے فرائض میں سے کوئی فَرض بھی ضائِع نہیں کیا۔کہا جائے گا:ممکن ہے تو نے اس مال میںتکبُّرسے کام لیا ہو ، سُواری یا لباس کے ذَرِیعے دوسروں پرفَخْرظاہِر کیا ہو! وہ عَرض کرے گا: اے میرے رب! میں نیتکبُّر بھی نہیں کیا اورفَخْرکا اظہار بھی نہیں کیا ۔کہا جائے گا:ممکن ہے تو نے کسی کا حق دبایا ہو جس کی ادائیگی کا میں نے حکم دیا ہے کہ اپنے رشتے داروں ،یتیموں، مسکینوں اور مسافِروں کو ان کا حق دو! وہ کہے گا:اے میرے رب!میں نے ایسا نہیں کیا،میں نے حلال طریقے پر کمایا اور جائز مقام پرخَرچ کیااور تیرے کسی فَرض کوترک نہیں کیا،تکبُّر وغُرُور بھی نہیں کیا اور کسی کا حق بھی ضائِع نہیں کیا ،تُو نے جسے دینے کا