ہے کہ ایک قبر کے سرہانے ایک شخص مٹی کی اینٹیں بنارہا ہے۔جب اُس نے یہ منظر دیکھا تو آنکھیں کھل گئیں اور اپنے آپ سے کہنے لگا: شرم کر! سونے کی اینٹ میں دل لگا کر سب کچھ بھول گیا ہے کہ ایک دن تیرا اپنا وجود مٹی کے ڈھیر تلے ڈال دیا جائے گا! لالچ کا منہ ایک اینٹ سے تو نہیں بھرتا، حِرْص کے دریاکے آگے ایک اینٹ سے بند نہیں باندھا جاسکتا! تو مال کی فکر میں اپنی عمر کی پُونجی برباد کر بیٹھا! تمناؤں کی گَرد نے تیری آنکھوں کو سی دیا ہے اور ہَوَس کی آگ نے تیری زندگی کی کھیتی برباد کر دی ہے! اب بھی وقت ہے غفلت کا سُرمہ آنکھوں سے نکال دے اور اپنی آخرت کی طرف دیکھ کیونکہ کل تو خود قبر کی مٹی کے نیچے خاک کاسُرمہ بننے والا ہے۔یہ سوچنے کے بعد اس نے تمام تر غلط منصوبے ختم کردئیے اور پھر سے نیکیاں کمانے میں مصروف ہوگیا ۔
گھپ اندھیری قبر میں جب جائے گا بے عمل! بے انتِہا گھبرائے گا
کام مال و زر وہاں نہ آئے گا جب ترے ساتھی تجھے چھوڑ آئیں گے
غافِل انساں یاد رکھ پچھتائے گا قبر میں کیڑے تجھے کھا جائیں گے
(وسائل بخشش ص۷۶۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(دسواں علاج) قِیامت میں حسابِ مال کی لرزہ خیز کیفیت کو یاد کیجئے
بروزِ قِیامت دیگر چیزوں کے ساتھ ساتھ مال کے بارے میں بھی حساب ہوگا ،حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد بن محمدبن محمدغزالی علیہ رحمۃ اللّٰہِ الوالی