Brailvi Books

حرص
188 - 228
دُنیا سے کیا لے کر جارہا ہوں؟
	 حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ  الْعَزیرنے وصال سے قبل اپنے پاس موجود لوگوں سے فرمایا : میری حالت سے عبرت پکڑو کیونکہ ایک دن تمہیں بھی موت کا سامنا کرنا ہے اور جب تم مجھے قبر میں اُتار چکو تو دیکھ لینا کہ میں تمہاری دُنیا سے کیا لے کر جارہا ہوں ۔(سیرت ابن جوزی ص۲۲۳)
؎  دُنیا کے نظارے ہمیں اِک آنکھ نہ بھائیں
نظروں میں بسیں کاش بیابانِ مدینہ
(وسائل بخشش ص۸۲۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
سونے کی اینٹ 
	ایک نیک شخص کو کہیں سے سونے کی اینٹ مل گئی جس نے اس کا دماغ آسمان پر پہنچا دیا۔ وہ ساری رات رَ قْص کرتا رہا اور اپنی آنکھوں میں طرح طرح کے خواب سجاتا رہا ، مثلاًمیں سنگِ مَرمَر کا محل بناؤں گا اس میں صندل کی لکڑی کا کام کرواؤں گا۔ دوستوں کے لئے ایک خاص کمرہ بناؤں گا جس کا دروازہ باغ کی طرف کھلے گا۔ کپڑوں کو پیوند لگا لگا کر تنگ آگیا ہوں اب میں نئے نئے مخملی لباس پہنا کروں گا، میں کُھردرا کمبل چھوڑ دوں گا کہ اس نے میرا جسم چھیل دیا ہے ۔اب تو ریشمی بستر تیار کراؤں گااور چین کی نیند سویا کروں گا۔انہی سوچوں میں گم وہ اپنی نماز بھی قضا کربیٹھا ۔ صبح کے وقت متکبرانہ چال چلتے چلتے جنگل کی طرف چل دیا۔ اچانک کیا دیکھتا