سے سنبھالنا اورحَسرَت سے چھوڑنا ۔مگر ہمارا اندازِ زندگی یہ بتا رہا ہے کہمَعَاذَ اللّٰہ گویا ہمیں کبھی مرنا ہی نہیں کیونکہ اگر موت ہمارے پیشِ نظر ہوتی تو ہم اپنے اَنجام سے غافل نہ ہوتے۔ حدیث پاک میں ہے: ’’لذتوں کو ختم کرنے والی (یعنی موت) کو کثرت سے یاد کرو۔‘‘ (سنن الترمذی،کتاب الزہد، حدیث ۴۱۳۲، ج۴،ص۸۳۱) ظاہر ہے جب انسان ہر وقت اس تصور کو اپنے ذہن میں رکھے گا کہ ’’مجھے ایک دن اس دنیا سے خالی ہاتھ جانا ہے‘‘ تو اس کی امیدیں بھی کم ہوں گی، حِرْص و طمع بھی نہیں ہوگی، الغرض وہ دنیا کی رنگینیوں میں منہمک رہنے کے بجائے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی رضا ہی کو پیش نظر رکھے گا اور مقصد حیات کو پانے کے لیے کوشاں رہے گا۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ
؎ مِری زندگی بس تِری بندگی میں
ہی اے کاش گزرے سدا یاالٰہی
(وسائل بخشش ص ۷۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
لوگ مرنے کے لئے پیدا ہوتے ہیں
حضرت سیِّدُناابو ذَرغِفَاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: لوگ مرنے کے لئے پیدا ہوتے ہیں، ویران کرنے کے لئے مکان تعمیر کرواتے ہیں،فناء ہونے والی چیزکی حِرْص رکھتے ہیں اور باقی رہنے والی (یعنی آخرت)کو بھلادیتے ہیں۔(الزہدلابن المبارک ، باب النہی عن طول الأمل،الحدیث۲۶۲،ص۸۸)