Brailvi Books

حرص
185 - 228
موقع پرارشاد فرمایا:یَا اَیُّہَا النَّاسُ اَمَا تَسْتَحْیُوْنَاے لوگو!کیا تمہیں شرم نہیں آتی ؟حاضِرین نے عَرض کی: یَارَسُولَ اللہ !کس بات سے؟ فرمایا:جَمع کرتے ہو جونہ کھاؤ گے اور عمارت بناتے ہوجس میں نہ رہو گے اور وہ آرزُوئیں باندھتے ہو جن تک نہ پہنچو گے اس سے شرماتے نہیں۔(اَلمعجمُ الْکبِیر لِلطّبَرانی، ج۵۲،ص۲۷۱،حدیث۱۲۴  ) 
انسان کا معاملہ بھی عجیب ہے!
	ایک دانشور کا کہنا ہے کہ انسان کا معاملہ بھی عجیب ہے اگر اُسے یہ کہا جائے کہ تم دنیا میں ہمیشہ رہو گے تو اسے جمع کرنے کی اس قدر حِرْص نہ ہوگی جتنی اب ہے حالانکہ نفع حاصل کرنے کی مدت کم ہے اور زندگی چند دنوں کی ہے۔(احیاء علوم الدین،کتاب ذم البخل وذم حب المال،ج۳،ص۷۹۲)
اس حرص سے کیا حاصل ؟
	ایک بزرگ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہنے ایک دنیا دار شخص کونصیحت آموز خط لکھا کہ مجھے بتائیے کہ آپ دنیا کے کاموں میں اَن تھک محنت کرتے اور دنیا ہی کے کاموں کا لالچ کرتے ہیں، کیا آپ کو دنیا میں وہ چیز ملی جو آپ چاہتے تھے ؟اور کیا آپ کی ساری تمنائیں پوری ہوگئیں؟اس شخص نے جواب دیا: اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی قسم!نہیں! بزرگ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے فرمایا: اب دیکھ لیجئے جس کے آپ اس قدر حریص ہیں وہ آپ کو نہیں مل سکی! تو آخرت جس کی طرف آپ کی توجہ ہی نہیں،اس کی نعمتیں کیسے حاصل کرسکیں گے! میرے خیال میں آپ صرف ٹھنڈے لوہے پر ضرب