Brailvi Books

حرص
183 - 228
رزق پہنچ کر رہے گا
	 حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے فرمایا:اَ یُّھَا النَّاسُ ! اِتَّقُوااللّٰہَ وَاَجْمِلُوْا فِی الطَّلَبِ فَاِنَّہٗ اِنْ کَانَ لِاَحَدِکُمْ رِزْقٌ فِیْ رَأسِ جَبَلٍ اَوْحَضِیْضِ اَرْضٍ یَاْتِیْہٖ یعنی لوگو! اللّٰہعَزَّوَجَلَّ سے ڈرو اور حلال ذریعے سے رِزق تلاش کرو کیونکہ اگرتمہارا رِزق کسی پہاڑ کی چوٹی پر رکھا ہے یا زمین کی تہہ میں ، تمہیں مل کر رہے گا ۔(سیرت ابن جوزی ص۴۳۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
دانے دانے پہ لکھا ہے کھانے والے کانام
	حضرت مولانا سیِّد ایوب علی صاحب رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا بیان ہے کہ ایک صاحب نے اعلیٰ حضرت ،مجدِّدِ دین وملت شاہ امام احمد رضاخان  علیہ رحمۃ الرحمنسے دریافت کیا: ’’حضور! یہ جو مشہور ہے کہ دانہ دانہ پر مہر ہوتی ہے کیا یہ صحیح ہے ؟‘‘ارشاد فرمایا: ہردانہ پر ایک ہی مہر نہیں بلکہ اس دانہ کے ہر ریزے پر جن جن کو پہنچتے ہیں ان سب کی مہریں ہوتی ہیں۔ (پھر فرمایا ) بنگال میں لوگ چاول زیادہ کھاتے ہیں، ایک مسلمان رئیس کے کھانا کھاتے وقت ایک دانہ چاول کادماغ پر چڑھ گیا، بہت کوشش کی طبیب ڈاکٹر وغیرہ سب مُعالِج حیران ہوئے مگر دانہ دماغ سے نہ اُترنا تھا ،نہ اُترا ۔شروع میں تو بڑی تکلیف رہی پھر وہ بے چارے اِس تکلیف کے عادی ہوگئے۔ برسوں گزرگئے۔پھر وہ ایک سال حَرَمَین طیبین حاضر ہوتے