توکل کسے کہتے ہیں؟
اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت،مولاناشاہ امام اَحمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں:تَوَکُّلتَرکِ اَسباب کا نام نہیں بلکہ اِعتِماد علی الاسباب کا تَرْک ہے۔(فتاویٰ رضویہ ج ۴۲ص۹۷۳) یعنی اَسباب ہی کو چھوڑ دینا توکُّل نہیں ہے بلکہ توکُّل تو یہ ہے کہ اَسباب پر بھروسہ نہ کرے،چنانچہ ہماری نظر اَسباب پر نہیں خالق ِ اسباب یعنی ربعَزَّوَجَلَّ پر ہونی چاہیے مثلاًمریض دواکھانا نہ چھوڑے بلکہ دواکھائے اور نظر خالقِ اسباب کی طرف رکھے کہ میرا رب عَزَّوَجَلَّ چاہے گا تو ہی اِس دواسے شِفا ملے گی ۔اے کاش ہمیں حقیقی توکُّل نصیب ہوجائے ۔اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْامین صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
توکل کیسا ہونا چاہئے؟
حُضُورنبیِّ کریم، ر ء وفٌ رَّحیم،محبوبِ ربِّ عظیم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ راحت نشان ہے :لَوْ اَ نَّکُمْ کُنْتُمْ تَوَکَّلُوْنَ عَلَی اللَّہِ حَقَّ تَوَکُّلِہِ لَرُزِقْتُمْ کَمَا یُرْزَقُ الطَّیْرُ تَغْدُوْا خِمَاصًا وَّتَرُوْحُ بِطَانًایعنی اگر تم اللّٰہعَزَّوَجَلَّ پرایسا توکُّل کرو جیسا کہ اُس پرتَوکُّل کرنے کا حق ہے تو تم کو ایسے رِزق دے جیسے پرندوں کو دیتا ہے کہ وہ(پرندے) صبح کو بھوکے جاتے ہیں اور شام کو شکم سیر لوٹتے ہیں۔
(سُنَنُ التِّرْمِذِی، ج ۴ ص۴۵۱حدیث۱۵۳۲)