Brailvi Books

حرص
181 - 228
تعالیٰ اسے مالدار بناتا ہے اور جو آدمی ضَرورت سے زائد خرچ کرتا ہے اللّٰہ  تعالیٰ اُسے محتاج کردیتا ہے اور جو شخص تواضُع(اِنکساری) کرتا ہے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ اسے بلندی عطا کرتا ہے۔(المسند البزار،مسند طلحۃ بن عبید اللّٰہ، الحدیث:۶۴۹،ج۳،ص۰۶۱)
؎     نہ دے جاہ وحَشمت نہ دولت کی کثرت
گدائے مدینہ بنا یا الٰہی
(وسائل بخشش ص ۰۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(ساتواں علاج)اپنے رب پر حقیقی توکل کیجئے
	بعض اسلامی بھائی یہ سوچ کر زیادہ سے زیادہ مال جمع کرنے کی فکر میں رہتے ہیں کہ کل کلاں کاروبار ڈُو ب گیا،نوکری چھوٹ گئی یابیمارہوگئے تو کہاں سے کھائیں گے؟ یا میرے مرنے کے بعد بچوں کا کیا بنے گا؟ یاد رکھئے جس رب عَزَّوَجَلَّ نے آج کھلایا ہے کل بھی وہی کھلائے گا ۔لہٰذااپنے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  پر توکُّل مضبوط کرکے حِرْص مال سے بچا جاسکتا ہے کہ بے شک وُہی چِیُونٹی کو کَن اور ہاتھی کو مَن عطا فرمانے والا ہے ۔یقینا یقینایقیناہر جاندار کی روزی اُسی کے ذِمّۂ کرم پر ہے،چُنانچِہ بارھویں پارے کی ابتِداء میں ارشاد ِ باری  عَزَّوَجَلَّ ہے:وَمَا مِنۡ دَآبَّۃٍ فِی الۡاَرْضِ اِلَّا عَلَی اللہِ رِزْقُہَا   (پ۲۱،ھود ۶)
ترجَمۂ کنزُالایمان: اور زمین پر چلنے والا کوئی ایسا نہیں جس کارِزق اللہ  (عَزَّوَجَلَّ ) کے ذِمّۂ کرم پر نہ ہو۔