پجارو والے کو مَرسڈیز (Mercedes)چاہئے۔کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ خوش نصیب وہ ہے جو اپنے نصیب پر خوش ہے ۔ ایک سبق آموز حکایت ملاحظہ ہو: چنانچہ منقول ہے کہ ایک بُزُرگ جو مستجابُ الدعوات تھے(یعنی ان کی دعائیں قبول ہوتی تھیں)ان کی خدمت میںایک شخص آیا اور اپنی تنگ دستی کا رونا روتے ہوئے کہنے لگا : حضرت! میرے گھر میں چار آدمی کھانے والے ہیں اور میری آمد نی صِرْف پانچ ہزار روپے ماہانہ ہے جس سے میرے اَخراجات پورے نہیں ہوتے ، آپ میرے حق میں دعا کیجئے کہ میری آمدنی میں کچھ اضافہ ہوجائے ۔ انہوں نے دعا کردی ۔ پھر ایک دکاندارآیااور عَرْض کی : حضور! میرے یہاں چار آدمی کھانے والے ہیں جبکہ کمانے والا میں اکیلا ہوں،مجھے دس ہزار روپے مہینے کے ملتے ہیں،میرا خرچ پورا نہیں ہوتا، آمدنی میں اِضافے کی دعا کردیجئے ۔جب وہ چلا گیا توایک تاجر آیا اور اِلتجاء کی : حضرت! میرا کنبہ چار افراد پر مشتمل ہے اور میری ماہانہ آمدنی فقط پچاس ہزارہے ، خرچہ پورا نہیں ہوتا میرے لئے دعا کیجئے۔وہ بزرگ حاضِرین سے فرمانے لگے : لگتا ایسا ہے کہ ہم میں سے کوئی اپنی قسمت پر راضی نہیں اگرچہ اس کو دوسرے سے زیادہ ملتا ہے،اگر انسان خود کو دنیا میں خوش اور عاقبت میں سرفراز رکھنا چاہتا ہے تواس پر لازِم ہے کہ جو کچھ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے اسے دیا ہے اس پر قناعت کرے اور صبر و شکر کرتا رہے کہ اس کی برکت سے مالک کریم عَزَّوَجَلَّاس کو زیادہ دے گا۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد