اوپر نہیں نیچے دیکھو
تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :جب تم میں سے کوئی کسی ایسے شخص کودیکھے جسے اس پر مال اور صورت میں فضیلت حاصل ہو تو اسے چاہئے کہ وہ اپنے سے کمتر پر بھی نظر ڈال لے۔(صحیح البخاری، ج ۴ ،ص۴۴۲حدیث:۰۹۴۶)
میرے پاؤں تو سلامت ہیں
حضرت شیخ سعدی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی فرماتے ہیں کہ ایک وقت مجھے جوتے پہننے کو میسر نہ ہوئے۔ اس سے میں تھوڑا غم زدہ ہورہا تھا۔ خدائے تعالیٰ کی قدرت کہ اُسی وقت میری نظر ایک شخص پر پڑی جو دونوں پاؤں سے معذور تھا ۔یہ دیکھ کر میں پَرْوَرْدگار عَزَّوَجَلَّ کا شکر بجالایا اور جوتے نہ ہونے پر صبر کیا۔(گلستانِ سعدی ص۵۹)
اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔ ٰ امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
کوئی اپنی آمدنی پر راضی نہیں ہے
اگر تھوڑا غور کیا جائے تو لکھ پتی ہویاککھ پتی(یعنی کنگال) کوئی اپنی حالت پر مطمئن دکھائی نہیں دیتا اور خواہشات کا درخت اپنی شاخیں پھیلاتا ہی چلاجاتا ہے ۔ سائیکل والے کو اِسکوٹرچاہئے، اِسکوٹر والے کو کار اور کار والے کو پجارو(Pajero)جبکہ