چیز کا شوق ہوا جو اللّٰہ تعالیٰ کے پاس ہے ۔( احیاء العلوم،ج۳،ص۶۳۴)
بارونق گھر دیکھ کر رَو پڑے
حضرتِ سَیِّدُنا ابنِ مُطِیع علیہ رَحْمۃُ السَّمِیع نے ایک دن اپنے بارونق گھر کو دیکھا تو خوش ہوگئے مگرپھر فوراً رونا شروع کردیا اور فرمایا،’’اے خوبصورت مکان! اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی قسم !اگر موت نہ ہوتی تو میں تجھ سے خوش ہوتا اور اگر آخِرِکار تنگ قَبْر میں جانا نہ ہوتا تو دنیااور اس کی رَنگینیوں سے میری آنکھیں ٹھنڈی ہوتیں۔ ‘‘ یہ فرمانے کے بعد اِس قَدَر روئے کہ ہچکیاں بندھ گئیں۔ ( اِتحَافُ السَّادَۃِ الْمُتّقِیْن، ج۴۱ ص۲۳)
اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔ ٰ امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(پانچواں علاج)احساس نعمت کیجئے
اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے محض اپنے فضل سے جو نعمتیں ہمیں بن مانگے عطا کردی ہیں ان پر غور کیجئے مثلاًآنکھ،کان ،دانت،ہاتھ پاؤں وغیرہ۔جب سرچھپانے کو چھت،پیٹ بھرکر کھانا مل رہا ہوتو خوامخواہ اپنے سے بَرتَر لوگوں کی آسائشوں اور عیشوں پر نگاہیں نہ جمائیے ورنہ آپ کے دل میں لالچ کا پودااُگ آئے گا ،بلکہ اپنے سے کم تَر لوگوں کی طرف دیکھنے کی عادت ڈالئے تو زبان پر بے اختیارکلماتِ شکر جاری ہوجائیں گے ، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ۔