کے لئے دنیا ہو! (صحیح مسلم، کتاب الطلاق، الحدیث۹۷۴۱: ،ص۴۸۷)
ہے چٹائی کا بچھونا کبھی خاک ہی پہ سونا کبھی ہاتھ کا سِرہانا مَدَنی مدینے والے
تِری سادَگی پہ لاکھوں تِری عاجِزی پہ لاکھوں ہوں سلامِ عاجِزانہ مَدَنی مدینے والے
(وسائلِ بخشش ،ص۵۸۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
رہن سہن میں اِنقلابی تبدیلی
حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز جب تک خلیفہ نہیں بنے تھے آپ کی نَفاسَت پسندی کا یہ حال تھا کہ نہایت بیش قیمت لباس زیب تن کرتے تھے اور تھوڑی دیر بعد اسے اُتار کر دوسرا قیمتی لباس پہن لیتے تھے۔لباس کے متعلق خود ان کا بیان ہے کہ جب میرے کپڑوں کو لوگ ایک مرتبہ دیکھ لیتے تھے تو میں سمجھتا تھا کہ پرانا ہوگیا۔(سیرت ابن جوزی ص۳۷۱)بسا اوقات آپ کے لئے ایک ہزار دینار میں عالیشان جُبَّہ خریدا جاتاتھامگر فرماتے: اگر یہ کُھردرا نہ ہوتا تو کتنا اچھا تھا !لیکن جب تختِ خلافت پر رونق افروز ہوئے تو مِزاج میں ایسی اِنقِلابی تبدیلی آئی کہ آپ کے لئے پانچ دِرہم کامعمولی سا کپڑا خریدا جاتا مگر آپ فرماتے: اگر یہ نَرم نہ ہوتا تو کتنا اچھا تھا!آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہسے پوچھا گیا : یاامیرَالمُؤمنین ! آپ کا وہ عالیشان لباس ،اعلیٰ سواری اورمہنگا عِطر کہاں گیا؟آپ نے فرمایا: میرا نفس زِینت کا شوق رکھنے والا ہے وہ جب کسی دُنیوی مرتبے کا مزا چکھتا تو اِس سے اُوپر والے مرتبے کا شوق رکھتا،یہاں تک کہ جب خلافت کا مزا چکھا جو سب سے بلند طبقہ ہے تو اب اُس