Brailvi Books

حرص
175 - 228
دُگنی مشغولیت اور دُگنا غم بھی لے لو۔اورجس کو دنیا میں کوئی نعمت دی جاتی ہے تواس کی آخرت سے اتناحصہ کم کر دیا جاتاہے۔پھراللّٰہعَزَّوَجَلَّ   کی قسم کھاکر ارشادفرمایا: دنیاسے جوبھی لوسوچ سمجھ لو،پس چاہوتوکم کرو اورچاہوتوزیادہ لو۔(شعب الایمان للشیخ اسعد محمد سعید الصاغرجی ،ج۳ ص۱۷۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
ہمارے لئے آخرت ان کے لئے دنیا ہو
	سرکارِمدینۂ منوّرہ،سردارِمکّۂ مکرّمہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمآسائشات سے پاک زندگی بسر کرتے تھے۔ جب صحابہ کرام رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم  کے سامنے آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خانگی زندگی کا ایسا ہی کوئی منظرآجاتا تو وہ فرطِ محبت سے آبدیدہ ہوجاتے۔ ایک بار حضر تِ سیّدُنا عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ  بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے تو دیکھا کہ آپصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم چٹائی پرلیٹے ہوئے ہیں ، جس پر کوئی بستر نہیں ہے۔ جسم مبارک پر تہبند کے سوا کچھ نہیں، پہلو میں چٹائی کے نشانات پڑے ہیں، توشہ خانہ میں مٹھی بھر جَوکے سوا اور کچھ نہیں ۔ یہ دیکھ کر آنکھوں سے بے ساختہ آنسو نکل آئے، اِرشاد ہوا : عمر کیوں روتے ہو؟ عَرْض کی: کیوں نہ روؤں! آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی یہ حالت ہے اورقیصرو کسریٰ دنیا کے مزے اُڑارہے ہیں! فرمایا: کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ ہمارے لئے آخرت اوران