ہاتھ تھام لیا، نظریں جھکا کر اس سے معافی مانگی اور گویا ہوا: اے مردِ درویش ! اب تم ہی بتاؤ کہ اس پیالے میں ایسا کیا راز ہے جو یہ بھرتا ہی نہیں ؟ فقیر نے سنجیدگی سے جواب دیا : اس میں کوئی خاص راز کی بات نہیں ہے، دراصل یہ پیالہ انسانی خواہشات سے بنا ہے۔ انسان کی خواہشات کبھی پوری نہیں ہوسکتیں، جتنا چاہو ڈال دو، خواہشات اور تمناؤں کا پیالہ ہمیشہ خالی رہتا ہے ہمیشہ مزید کی طلب میں کھلا رہتا ہے۔
عیب میں ڈالنے والی خواہش سے بچو
مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :’’ اللہ عزوجل کی پناہ مانگو ایسی خواہش سے جو عیب میں ڈال دے اور ایسی خواہش سے جو دوسری خواہش میں ڈال دے اور بے فائدہ چیزکی خواہش سے۔‘‘(المسندلامام احمد بن حنبل، مسند الانصار، الحدیث:۲۸۰۲۲ ،ج۸، ص۷۳۲)
طویل غم میں مبتلاء کردیتی ہیں
حضرت سیدنا حُذَیفہ بن یَمان رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے فرمایا: بہت سی خواہشات محض ایک گھڑی کے لئے ہوتی ہیں مگر انسان کو طویل غم میں مبتلاء کردیتی ہیں۔ (کتاب اللمع فی التصوف (مترجم)، ص۷۱۲ )
آخرت سے اتنا حصہ کم کردیا جاتا ہے
حضرت فُضیل بن عِیاض رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ ارشادفرماتے ہیں:جس شخص کو دنیامیں سے کچھ حصّہ دیاجاتا ہے تو کہا جاتا ہے:یہ لے لواور اِس سے دُگنی حِرْص،