بھائیو! دوسرے کے مال کے آسرے پر رہنا کہ وہ مجھ سے بَہُتمَحَبَّت کرتا ہے، خود ہی مجھے آفر بھی کرتا رَہتا ہے کہ جب بھی ضَرورت ہو ، کہہ دیا کرو۔ اِس لئے کبھی ضَرورت پڑی تو اس سے مانگ لوں گا، مَنْع نہیں کریگا وغیرہ اُمّیدیں بَہُت ہی کھوکھلی ہیں کہ آدمی کادل بدلتا رَہتا ہے ۔یاد رکھئے! ’’دینے والا‘‘انسان’’ لینے والے‘‘ سے مُتأَثِّر نہیں ہوسکتا البتّہ اگر کوئی دینے آئے اور آپ قَبول نہیں کریں گے تو ضَرور مُتأَثِّر ہو گا۔حضرتِ سیِّدُنا ابو ایّوب اَنصاری رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مَروی ہے کہ ایک دَیہاتی نے سرکارِ مدینہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں حاضِر ہو کر عرض کی،یا رسولَ اللہ! صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم مجھے ایک مختصر وصیّت فرمایئے! فرمایا: جب نَماز پڑھو تو زندَگی کی آ خِری نَماز( سمجھ کر) پڑھو اور ہرگز ایسی بات نہ کرو جس سے تمہیں کل معذِرت کرنا پڑے اور لوگوں کے پاس جو کچھ ہے اُس سے نا اُمّید ہو جاؤ۔
( سنَنِ ابنِ ماجہ،ج۴،ص۵۵۴، حدیث۱۷۱۴ )(فیضان سنت ج۱ ص ۵۰۵)
؎ مِرے دل سے ہَوَس دنیا کی دولت کی نکل جائے
عطا کردو مجھے بس اپنی اُلفت یارسولَ اللہ
(وسائل بخشش ص ۱۵۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(چوتھا علاج)خواہشات کو کنٹرول کیجئے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مہنگے ترین فرنیچر سے سجے سجائے فُل ائیر کنڈیشنڈ بنگلوں،چمکتی دَمکتی قیمتی گاڑیوں اورنت نئے کپڑوں جیسی خواہشات پوری کرنے کے لئے