Brailvi Books

حرص
170 - 228
 ترین باب میں شمار کئے گئے ہیں اورآج بھی ان کا ذِکر نفرت سے کیا جاتا ہے جبکہ دوسری طرف حضرتِ سیِّدُنا ابو دَرداء  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ،حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز اور حضرتِ سیِّدُنا اِبراھیم بن اَدھمرحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہما  جیسے بے شُماربُزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ المُبِین نے دنیا میں قناعت پسندی کی ایسی ایسی مثالیں قائم کی ہیں کہ تاریخ نے انہیں سنہری الفاظ میں یادکیا ہے اورآج ان کا نام لیتے ہی نگاہ ودل ان کی عظمت کے سامنے جھک جاتے ہیں ،ان کا ذِکْردِ لوںکو سکون بخشتا ہے اور ان کی سیرت آج بھی بھٹکی ہوئی انسانیت کیلئے مشعلِ راہ ہے۔
(۱۱) واپس لوٹ آتے 
	حضرت سیدنا ابوالقاسم مُنَادِی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ اپنے گھر سے روزی کمانے کے لئے نکلتے ،جب ان کے پاس اَخراجات کے لئے رقم جمع ہوجاتی تو مزید کمانے کے لئے نہ رُکتے بلکہ فوراً گھر واپس آجاتے چاہے کوئی بھی وقت ہوتا۔ (کتاب اللمع فی التصوف ( مترجم)، ص ۰۹۲ ملخصًا)
اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔ ٰ امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                     صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
دوسروں کے مال پر بھی نظر نہ رکھئے
	شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ لکھتے ہیں:میٹھے میٹھے اسلامی