Brailvi Books

حرص
172 - 228
 بہت سا مال دَرکار ہوتا ہے ،اگر ان خواہشات کو ہی کنٹرول کرلیا جائے تو حِرْصِ مال سے کافی حد تک نجات حاصل کی جاسکتی ہے کیونکہ جو سادَگی اپنائے اور سادہ غِذا ولباس پر قَناعت کرے ، اُس کو نہ دولت کی حاجت ہوتی ہے نہ دولت مند کی۔اس بات کو ایک دلچسپ حکایت سے سمجھنے کی کوشش کیجئے ، چنانچہ 
خواہشات کا پیالہ
	کہتے ہیں کسی سلطنت کا ایک بادشاہ بڑا طاقتور ، سر بلند اور شان و شوکت والا تھا۔ اُسے اپنی عظیم الشان سلطنت ، سونا اُگلتی زمینوں اور زر و جواہر کے خزانوں پر بڑا ناز تھا۔ برسوں کی محنت سے اُس نے اپنے اِقتدار کو اِس قدر مُستحکم کردیا تھا کہ اب اُسے کسی دشمن کا خطرہ نہیں تھا۔ ایک روز وہ اپنے دارُالحکومت میں دَورے کے لیے نکلا ۔ وزیر اور کچھ درباریوں کے علاوہ محافظوں کا دستہ بھی ساتھ تھا۔ بادشاہ کو شہر کا چکر لگانا بڑا مَرغُوب تھا۔ شان و شوکت کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ کچھ فریادیوں کی داد رَسی کا موقع بھی مل جاتا۔ واپسی پر محل کے قریب اُسے ایک فقیر نظر آیاجو پرانے کپڑوں میں ملبوس ایک سائیڈ پر بے نیاز بیٹھا تھا۔ بادشاہ نے نَرْم لہجے میں دریافت کیا: اپنی کوئی ضرورت بتاؤ، تاکہ میں اسے پوراکرسکوں۔ فقیر کی ہنسی نکل گئی ۔ بادشاہ نے قدرے سختی سے پوچھا :اس میں ہنسنے والی کیا بات ہے ! اپنی خواہش بتاؤ، میں تمہیں ابھی مالا مال کردوں گا۔ فقیر نے کہا:بادشاہ سلامت!پیشکش تو آپ ایسے کررہے ہیں جیسے میری ہر خواہش پوری کرسکتے ہوں؟اب بادشاہ نے برہمی سے کہا: بے شک میں تمہاری ہر