ایک فرشتہ آواز دیتا ہے: اے ابنِ آدم!وہ قلیل (یعنی تھوڑا)جو تمہیں کفایت کرے اُس کثیر سے بہتر ہے جو تمہیں سَرکش بنادے۔(احیاء علوم الدین،کتاب ذم البخل،ج۳،ص۵۹۲)
(۹)سیِّدُنا ابوحازِم کی قناعت مرحبا!
بنو اُمَیَّہ کے کسی بادشاہ نے حضرتِ سیدناابو حازِم رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کو خط لکھا اور قسم دے کر کہا کہ آپ کی جو حاجات ہوں مجھے بتائیں۔ حضرتِ سیدناابو حازِم رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے جواباً لکھا: میں نے اپنی حاجات اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی بار گاہ میں پیش کردی ہیں ، وہ جو کچھ دے گا لے لوں گا اور جو کچھ مجھ سے روک رکھے گا اس پر صبر کروں گا۔(احیاء علوم الدین،کتاب ذم البخل وذم حب المال،ج۳،ص۵۹۲)
(۰۱) قَناعت میں عزت ہے
یادرکھئے کہ حِرْص سے رِزْق نہیں بڑھتا مگر ذِلت بڑھ جاتی ہے اور قناعت سے رِزْق نہیں گھٹتا مگر عزت بڑھ جاتی ہے ۔ہادیٔ راہِ نَجات، سر ورِ کائنا ت، شاہِ موجوداتصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا:عَزَّ مَنْ قَنَعَ وَ ذَلَّ مَنْ طَمَعَ یعنی جس نے قَناعت کی اُس نے عزّت پائی اور جس نے لالچ کیا ذلیل ہوا۔(روح البیان ج ۱ ص ۱۶۱ تحت الایۃ:۱۷)
ذرا تاریخ کے اوراق اُٹھا کر دیکھئے توآپ کو فِرعون ، شَداد، نَمرود،ہامان اور یزید جیسے بہت سے نام ملیں گے جنہوں نے دولت واِقتدار کی حِرْص و لالچ کو پورا کرنے کیلئے انسانیت پر اَن گنت مَظالِم ڈھائے ، اُن کے نام تاریخِ انسانیت کے سیاہ