Brailvi Books

حرص
168 - 228
سبب آ تی ہے(ڈاکوؤں کے ذَرِیعے )۔ (اِحیا ء العلوم ج ۳ ص۵۹۲)
(۶)ایک دیہاتی کی شاندار نصیحت
	ایک اعرابی نے اپنے بھائی کو حِرْص کرنے پر جھڑکتے ہوئے کہا: میرے بھائی! ایک چیزوہ ہے جسے تم ڈھونڈ رہے ہوحالانکہ وہ تمہیں مل کر رہے گی (یعنی رزق) اور ایک شے وہ جو تمہیں ڈھونڈ رہی ہے جس سے تم بچ نہیں سکتے (یعنی موت ) ،کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ حریص کی حِرْص کی وجہ سے اسے بہت کچھ مل جاتا ہے اور زاہد(یعنی دنیا سے بے رغبتی رکھنے والے) کو کبھی رزق نہیں ملتا ۔(احیاء علوم الدین،کتاب ذم البخل ،ج۳،ص۶۹۲)
	غالباًاعرابی کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ نہ توحِرْص کے سبب بندے کے رزق میں اضافہ ہوتا ہے اور نہ ہی بے رغبتی کی وجہ سے کوئی کمی ہوتی ہے تو حِرْص میں مبتلا ہوکر رسک کیوں لیا جائے ؟ اس کے بجائے بے رغبتی اپنا کر اس کے فضائل کیوں نہ حاصل کئے جائیں !
(۷)کاش ! مجھے میری ضرورت کے مطابق ہی رزق ملتا
	سرکارِ مدینہ، سلطانِ باقرینہ  صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:قیامت کے دن ہر فقیر اور مالدار اس بات کو پسند کرے گا کہ اسے دنیا میں ضَرورت کے مطابق رِزْق ملتا۔(المسند للامام احمد بن حنبل،الحدیث:۴۶۱۲۱،ج۴،ص۵۳۲)
(۸)قلیل کثیر سے بہتر ہے
	حضرتِ سَیِّدُنا عبد اللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:ہر دن