بجالائے اور یہ اِعتقاد رکھے کہ انسان جب ماں کے پیٹ میں ہوتاہے، اُسی وقت ایک فِرِشتہ خداعَزَّوَجَلَّ کے حُکْم سے چار چیزیں لکھ دیتا ہے: انسان کی عمر، روزی‘ نیک بختی اور بدبختی، یہی انسان کا نوشتۂ تقدیر ہے۔لہٰذااپنا یہ ذہن بنالیجئے کہ لاکھ حِرْص کرو مگر ملے گاوہی جو تقدیر میں لکھ دیا گیا ہے۔ اس کے بعد خدا عَزَّوَجَلَّ کی رضا اور اس کی عطا پر راضی ہوجائیے اور رزقِ حلال کے لئے کوشاں رہئے۔اگر سہولیات وآسائشات کی کمی کی وجہ سے کبھی دل صدمے میں مبتلا ہو اور نَفْس اِدھر اُدھر لپکے تو صبر کے ذریعے اس کی لگام کھینچ لیجئے ۔ اِس سے آپ کو کم از کم دوفائدے حاصل ہوں گے،ایک تو صبر کا ثواب ملے گااور دوسرا حِرْص میں کمی آئے گی۔ اسی طرح کرتے کرتے ایک دن آئے گا کہ آپ کے دل میں قناعت کا نور چمک اٹھے گا اور حِرْص و لالچ کاسیاہ بادل چھٹ جائے گا، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ۔
حِرْص ذلت بھری فقیری ہے
جو قناعت کرے‘ تو نگر ہے
یاد رکھئے! مَشَقَّت دونوں میں ہے حِرْص میں بھی اور قناعت میں بھی، ایک کا نتیجہ بربادی دوسری کا آبادی !آپ کو کیا چاہئے؟ اس کافیصلہ آپ نے کرنا ہے۔جو قَنَاعَت کرے گا اِن شائَ اللّٰہُ الغفّارعَزَّوَجَلَّخوشگوار زندگی گزارے گا۔ جس کے دل میںدنیا کی حِرص جتنی زیادہ ہو گی اُتنی ہی زندگی میں بدمزگی بڑھے گی ، مقولہ ہے : اَلْحِرصُ مِفْتاحُ الذُّلِّ یعنی حِرص ذلّت کی کنجی ہے اوراَلْقَنَاعَۃُ مِفْتاحُ الرَّاحَۃِ یعنی