پریشانیوں میں مبتَلا دیکھے جاتے ہیں،کوئی اولاد کے لئے تڑپتا ہے،کسی کی ماں بیمار ہے،کسی کا باپ مر یض تو کوئی خود مُوذی بیماری میںگَرِ فتار ہے۔کتنے مالدار آپ کو ملیں گے جو ہارٹ (دل ) کے مریض ہیں۔کئی شُوگر کے مریض ہیں جو بیچارے میٹھی چیز نہیں کھا سکتے۔طرح طرح کی کھانے کی اَشیاء سامنے موجود مگراَرَب پتی سیٹھ صاحِب چکھ تک نہیں سکتے۔ بے چارے فَقَط دولت وجائیداد کے تصوُّر سے دل بہلاتے رہتے ہوں گے۔پھر بھی دولت کا نشہ عجیب ہے کہ اُترنے کا نام ہی نہیں لیتا! یقین جا نئے! دَھن کماتے چلے جانا صِرف اورصرف نادانوں کی دُھن ہے ۔ اتنا نہیں سوچتے کہ آخِر اتنی دولت کہاں ڈالوں گا؟ فُلاں فُلاں سرمایہ دار بھی تو آخِرموت کے گھاٹ اُتر ہی گئے ! ان کی دولت انہیں کیا کام آئی!۱ُلٹا وارِثوں میں ورثے کی تقسیم میں لڑائیاں ٹھن گئیں،دشمنیاں ہوگئیں ،کورٹوں میں پہنچ گئے اوراخباروں میں چَھپ گئے اورخاندانی شرافتوں کی دھجیاں بکھر گئیں ۔ ؎
دولتِ دنیا کے پیچھے تُو نہ جا آخِرت میں مال کا ہے کام کیا !
مالِ دنیا دو جہاں میں ہے وَبال کام آئے گا نہ پیشِ ذوالجلال
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(تیسرا علاج) صبر وقناعت سے علاج
حِرْصِ مال کے قلبی مرض کاایک علاج صبر و قناعت بھی ہے یعنی جو کچھ رازِقِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے بندے کو مل جائے اُس پر راضی ہو کر اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کا شکر