رختِ سفر باندھتاہے اوردیکھتا ہے کہ اس نے گناہوں کے بدلے جو مال سمیٹا تھا وہ یہیں رہ جائے گا تو اس وقت آنکھیں کھلتی ہیں کہ اس دنیا میں میری حیثیت وہی تھی جو ایک سرائے (یعنی ہوٹل) میں ایک مسافر کی ہوتی ہے ،جو وہاں کچھ دیر قیام کرکے اپنی منزل کی طرف روانہ ہوجاتا ہے وہ اس سرائے کے سازو سامان میں کسی قسم کا اِضافہ نہیں کرتا اور نہ ہی وہاں کی زیبائش وآرائش پر لَلچاتا ہے، اُسے صِرْف یہی فکر ہوتی ہے کہ اِس سرائے میں میرا وقت خیریت وعافیت سے گزر جائے اور میں وقتِ مقررہ پر اپنی منزل کی جانب روانہ ہوسکوں ۔یہ سب کچھ سوچ کر موت کے منہ میں جانے والے لالچی شخص کو یقینا پچھتاوا ہوتا ہے مگر اس وقت بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے ۔
صُبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے عُمر یونہی تمام ہوتی ہے
مال ودولت کے عاشِقوں کی آرزو ناتمام ہوتی ہے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
دوبھوکے بھیڑئیے
اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے حبیب،حبیبِ لبیب صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کافرمان عبرت نشان ہے :دو بھوکے بھیڑیے اگر بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑدیئے جائیں تو اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا کہ مال ودولت کی حِرْص اور حبِّ جاہ انسا ن کے دین کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔ (جامع الترمذی ،کتاب الزھد،ج۴ ،ص۶۶۱ ،حدیث ۳۸۳۲)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس