بھلائی کس میں ہے؟
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آج کل مال ودولت میں فراوانی کوہی خیرو بھلائی سمجھا جاتا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: بھلائی اس میں نہیں کہ تمہیں کثیر مال و اولادمل جائے بلکہ بھلائی تو اس میں ہے کہ تمہار احِلم بڑھے، علم ترقی کرے اور تم اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت میں دوسرے لوگوں سے آگے بڑھ جاؤ اورجب کوئی نیکی کرنے کی سعادت پاؤ تواس پر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد بجا لاؤ اور گناہ ہوجانے پر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے بخشش کاسوال کرو۔(المصنف لابن ابی شیبۃ،کتاب الزہد،الحدیث۶،ج۸،ص۱۶۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
حرصِ مال بھی ایک باطنی بیماری ہے
مال کی مذموم حِرْص بھی یقینا ایک باطنی بیماری ہے جو محتاجِ علاج ہے، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:عنقریب میری اُمت کو پچھلی اُمتوں کی بدترین بیماری پہنچے گی جو کہ تکبر، کثرتِ مال کی حِرْص، دنیوی معاملات میں کینہ رکھنا، باہم ایک دوسرے سے بغض رکھنا اور حسد (کرنے پر مشتمل )ہے ، یہاں تک کہ وہ سَرکشی اختیار کر لے گی۔
(المستدرک ،کتاب البر والصلۃ ، باب داء الامم۔۔۔الخ،الحدیث۱۹۳۷،ج۵،ص۴۳۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
باطنی بیماری جسمانی بیماری سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اگر کسی کو کوئی چھوٹی سی جسمانی بیماری لگ جائے تو وہ فوراً علاج کی فکر کرتا ہے حالانکہ اس بیماری کا زیادہ سے زیادہ نقصان یہ ہوسکتا ہے کہ یہ بڑی ہوکر انسان کودھیرے