اور اپنی دولت میں سے بھی حصہ دوں گا۔مگر اس نے معذرت کرلی کہ میں اسی حال میں خوش ہوں۔چنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا ذو القرنین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ وہاں سے چلے آئے۔(تاریخ مدینہ دمشق،ذکر من اسمہ ذو القرنین،ج۱۷،ص۳۵۳تا۳۵۵ ملخصا)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۸) دُنیوی دولت سے بے رغبتی
شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری دامت برکاتہم العالیہ کے کُرتے میں سینے کی طرف دو جیبیں ہوتی ہیں۔ مسواک شریف رکھنے کیلئے آپ اپنے الٹے ہاتھ (یعنی دل کی جانب) والی جیب کے برابر ایک چھوٹی سی جیب بنواتے ہیں۔اس کا سبب آپ نے یہ ارشاد فرمایا کہ میں چاہتا ہوںکہ یہ آلۂ ادائے سنّت میرے دل سے قریب رہے۔ اس کے برعکس دُنیوی دولت سے بے رغبتی کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ آپ دَامَتْ بَرَکا تُہُمُ الْعالِیہ کو دیکھا گیا کہ جب کبھی ضرورتاً جیب میں رقم رکھنی پڑے توسیدھے ہاتھ والی جیب میں رکھتے ہیں۔ اس کی حکمت دریافت کرنے پر فرمایا: میں الٹے ہاتھ والی جیب میں رقم اسلئے نہیں رکھتا کہ دنیوی دولت دل سے لگی رہے گی اوریہ مجھے گوارا نہیں، لہٰذا میں ضروت پڑنے پر رقم سیدھی جانب والی جیب میں ہی رکھتا ہوں۔(فکر مدینہ،ص۱۲۱)
اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔ ٰ امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد