Brailvi Books

حرص
155 - 228
 سی قبریں کھودرکھیں تھیں، صبح کے وقت وہاں کی صفائی کرتے اور نماز ادا کرتے پھر صرف سبزیاں کھا کر پیٹ بھرلیتے کیونکہ وہاں کوئی جانور ہی موجود نہ تھاجس کا وہ گوشت کھاتے ۔حضرتِ سَیِّدُنا ذُو القرنین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کو ان کا سادہ ترین طرزِ زندگی دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی چنانچہ آپ  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہنے ان کے سردار سے پوچھا: میں نے تم لوگوں کو ایسی حالت میں دیکھا ہے کہ جس پر کسی دوسری قوم کو نہیں دیکھا اس کی کیا وجہ ہے؟سردار نے سوال کی تفصیل پوچھی تو فرمایا:میرا مطلب یہ کہ تمہارے پاس دنیا کی کوئی چیز نہیں ہے اور تم سونا اور چاندی سے بھی نفع نہیں اٹھاتے!سردار کہنے لگا : ہم نے سونے اور چاندی کو اس لئے بُرا جانا کہ جس کے پاس تھوڑا بہت سونا یا چاندی آجاتی ہے وہ انہی کے پیچھے دوڑنے لگتا ہے۔ آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے پوچھا: تم لوگ قبریں کیوں کھودتے ہوں؟ اور جب صبح ہوتی ہے تو ان کو صاف کرتے ہو اور وہاں نماز پڑھتے ہو۔ بولا: اس لئے کہ اگر ہمیں دنیا کی کوئی حِرْص و طمع ہوجائے توقبروں کو دیکھ کر ہم اس سے باز رہیں ۔ آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے پوچھا: تمہارا کھانا صرف زمین کی سبزی کیوں ہے؟ تم جانور کیوں نہیں پالتے تاکہ ان کا دودھ حاصل کرو ،ان پر سواری کرو اوران کا گوشت کھاؤ؟سردارنے کہا: اس سبزی سے ہماری گزر اوقات ہوجاتی ہے اور انسان کو زندگی گزارنے کے لیے ادنیٰ چیز ہی کافی ہے اور ویسے بھی حَلْق سے نیچے پہنچ کر سب چیزیں ایک جیسی ہوجاتی ہیں ان کا ذائقہ پیٹ میں محسوس نہیں ہوتا۔ حضرتِ سَیِّدُنا ذو القرنین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے اس کی دانائی بھری باتیں سن کر پیش کش کی :میرے ساتھ چلو،میں تمہیں اپنا مشیر بنالوں گا