دولت کے ذریعے دے رہے ہو ؟جاؤ !اپنی یہ دنیوی دولت اپنے پاس ہی رکھو، مجھے اس کی کوئی حاجت نہیں۔‘‘
حضرت سیدنا عبد اللہ محاملی علیہ رحمۃ اللّٰہِ الوالی فرماتے ہیں:ان کی یہ شانِ بے نیازی دیکھ کر میں واپس چلا آیا ۔ اب میری نظروں میں بھی دنیا حقیر ہو گئی تھی، چنانچہ میں اپنے دوست جُرجانی کے پاس گیا اسے سارا ماجرا سناکر ساری رقم واپس کر نا چاہی تو ا س نے یہ کہتے ہوئے وہ درہم واپس کر دیئے کہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی قسم ! میںجو رقم راہِ خدا میں دے چکا ہوں اُسے کبھی واپس نہ لوں گا، یہ سارامال آپ ہی رکھئے اور جہاں چاہے خرچ کیجئے۔ میں یہ سوچ کر وہاں سے چلا آیا کہ میں یہ ساری رقم ایسے لوگوں میں تقسیم کر دوں گا جو شدید حاجت مند ہونے کے باوجود دوسروں کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے بلکہ صبر و شکر سے کام لیتے ہیں اور اپنی حالت حتی الامکان کسی پر ظاہر نہیں ہونے دیتے ۔(عیون الحکایات ،ص ۱۷۴ملخصًا)
؎ نہ دے جاہ وحَشمت نہ دولت کی کثرت
گدائے مدینہ بنا یا الٰہی!
(وسائل بخشش ص ۸۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۷) ایک عجیب وغریب قوم
منقول ہے کہ حضرتِ سَیِّدُنا ذُو القرنین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ایک قوم کے پاس سے گزرے تودیکھا ان کے پاس دُنیاوی سازوسامان نام کو بھی نہ تھا،انہوں نے بہت