Brailvi Books

حرص
153 - 228
 بھیجا تھالیکن انہوں نے میرے دراہم اور غلام کو یہ کہہ کر واپس بھیج دیا کہ ’’ جاؤ! اور اپنے مالک سے کہہ دینا کہ تم نے مجھے کیا سمجھ کر یہ درہم بھجوائے ہیں؟ کیا میں نے تم سے اپنی حالت کے بارے میں کوئی شکایت کی تھی؟ مجھے تمہارے ان درہموں کی کوئی حاجت نہیں، میں ہر حال میں اپنے پَروردگار عزوجل سے خوش ہوں، وہی میرا مقصود ِاصلی ہے، وہی میرا کفیل ہے اور وہ مجھے کافی ہے۔‘‘
	اپنے دوست سے یہ بات سن کر میں بہت متعجب ہوا اوراس سے کہا: ’’تم وہ درہم مجھے دو، میں ان کی بارگاہ میں یہ پیش کروں گا۔ مجھے امید ہے کہ وہ قبول فرما لیں گے۔‘‘اُس نے فوراًغلام کو حکم دیا: ’’ہزار ہزار درہموں سے بھرے ہوئے دو تھیلے لاؤ۔‘‘ اور مجھ سے کہا :’’ ایک ہزار درہم میرے پڑوسی کے لئے ہیں اور ایک ہزار آپ قبول فرما لیں۔‘‘میں وہ دو ہزار درہم لے کر حضرت سیدنا داؤد بن علی علیہ رحمۃ اللّٰہِ الوالی کے مکان پر پہنچااور دروازے پر دستک دی ، آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ دروازے پر آئے اور اندر ہی سے پوچھا:’’ اے ابو عبداللّٰہ ! تم دوبارہ کس لئے یہاں آئے ہو ؟‘‘ میں نے عرض کی : ’’حضور! ایک معاملہ دَرپیش ہے، اسی کے متعلق کچھ گفتگو کرنی ہے۔‘‘ انہوں نے مجھے اندر آنے کی اجازت عطا فرمادی۔ میں ان کے پاس بیٹھ گیا اور درہم نکال کر ان کے سامنے رکھ دیئے۔یہ دیکھ کر آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے فرمایا: ’’میں نے تمہیں اپنے پاس آنے کی اجازت دی تھی اسی لئے تم میری حالت سے واقِف ہو گئے۔میں تو یہ سمجھا تھا کہ تم میری اِس حالت کے امین ہو ۔میں نے تم پر اِعتماد کیا تھا، کیا اس اِعتماد کاصِلہ تم اس دُنیوی