Brailvi Books

حرص
152 - 228
 دن نمازِ عید کے بعد میں نے سوچا کہ آج عید کا دن ہے، کیا ہی اچھا ہوکہ میں حضرت سیدنا داؤد بن علی علیہ رحمۃ اللّٰہِ القوی کی بارگاہ میں حاضر ہوکر انہیں عید کی مبارکباد دوں ! چنانچہ میں ان کے گھر کی طرف چل دیا۔آپ سادگی پسند بزرگ تھے اور ایک چھوٹے سے مکان میں رہائش پذیر تھے ۔ جب میں ان سے اِجازت لے کر گھر میں داخل ہوا تو دیکھا کہ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ  کے سامنے ایک برتن میں پھلوں اورسبزیوں کے چھلکے اور ایک برتن میں آٹے کی بُور(یعنی بھوسی) رکھی ہوئی تھی جسے آپ تناوُل فرما رہے تھے ۔ یہ دیکھ کر مجھے بڑی حیرت ہوئی، میں نے انہیں عید کی مبارکباد دی اور سوچنے لگا کہ آج عید کا دن ہے، ہر شخص اَنواع و اَقسام کے کھانوں کا اہتمام کر رہا ہو گا لیکن آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ آج کے دن بھی اس حالت میں ہیں کہ چھلکے اور آٹے کی بھوسی کھا کر گزارہ کر رہے ہیں۔میں نہایت غم کے عالم میں وہاں سے رخصت ہوا اور اپنے ایک صاحبِ ثروَت دوست  ’’جُرجانی‘‘ کے پاس پہنچا ۔جب اس نے مجھے پریشان دیکھا تووجہ دریافت کی ۔میں نے اُسے بتایا : ’’تمہارے پڑوس میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کے ایک ولی رہتے ہیں، آج عید کا دن ہے لیکن ان کی یہ حالت ہے کہ وہ پھلوں کے چھلکے کھا رہے تھے، تم تو نیکیوں کے معاملے میں بہت زیادہ حریص ہو، تم اپنے اس پڑوسی کی خدمت سے غافِل کیوں ہو ؟‘‘یہ سن کر اس نے کہا:’’ حضور! آ پ جن کی بات کر رہے ہیں وہ دُنیا دار لوگوں سے دُور رہنا پسند کرتے ہیں۔ میں نے آج صبح ہی ان کی خدمت میں ایک ہزار درہم بھجوائے تھے اور اپنا ایک غلام بھی ان کی خدمت کے لئے