Brailvi Books

حرص
151 - 228
 مسجد کے دروازے پر میری دکان ہو اور اس سے روزانہ چالیس دینار کما کر راہِ خدا میں صدقہ کروں اور میری نمازوں میں بھی خلل واقع نہ ہو تو پھر بھی میں تجارت کرنا پسند نہیں کروں گا۔ اِس پرکسی نے عرض کی: آپ تجارت کو اس قدر ناپسند کیوں جانتے ہیں؟ فرمایا: حساب کی شدّت کے خوف کی وجہ سے۔
(تاریخ مدینۃ دمشق لابن عساکر،الرقم۴۶۴۵عویمر بن زید ،ج۴۷، ص۱۰۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۵) آپ زیادہ مال کیوں نہیں کماتے؟
	حضرت سَیِّدَتُنا امّ ِدَرْدَاء رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے حضرت سَیِّدنا ابو دَرْدَاء رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے پوچھا: کیا وجہ ہے کہ  آپ ویسی کمائی نہیں کرتے جیسی فلاں کرتا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے خلق کے رہبر،شافعِ محشر، محبوبِ داور صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلم  کو فرماتے سنا :’’ تمہارے لیے دشوارگزار گھاٹی ہے جسے بوجھل لوگ طے نہ کرسکیں گے ۔‘‘لہٰذا!میں چاہتا ہوں کہ اُس گھاٹی کے لئے ہلکارہوں۔(شعب الایمان للبیہقی،الحادی والسبعون من شعب الایمان، الحدیث:۱۰۴۰۹، ج۷،ص۳۰۹)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !     صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۶)مال مانگنا تو درکنار کوئی پیش بھی کرتا تو منع فرما دیتے 
	حضرت سیدنا احمد بن حسین رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہما   فرماتے ہیں: میں نے حضرت سیدنا ابو عبداللہ محاملی علیہ رحمۃ اللّٰہِ الوالی کو یہ فرماتے ہوئے سنا:’’عید الفطر کے