فرما لیں۔ حضرت سیِّدُناابو ذَر غِفَاری رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے اس کا ہدیہ لوٹا دیااور فرمایا: ’’اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے ساتھ دھوکہ کرنے کے لئے اسے کوئی اور نہیں ملا۔ہمیں تو سر چھپانے جتنی جگہ اور کچھ بکریاںجو شام کولوٹ آیا کریں اور ایک کنیز جو ہماری خدمت کر سکے ، کافی ہے اور جواس سے زائد ہو ہم اس سے ڈرتے ہیں۔‘‘
(الزہد للامام احمد بن حنبل ،زہد ابی ذر ،الحدیث۷۹۴،ص۱۷۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۴) شوقِ عبادت میں ترکِ تجارت
حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ایک مصروف تاجر تھے۔ جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے دل میں عبادت و رِیاضت کا مزیدشوق پیدا ہوا تو ان دونوں چیزوں کو ایک ساتھ لے کر چلنا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے لئے کچھ مشکل ہو گیا تو بغیر کسی تردُّد کے تجارت کو خیر آباد کہہ کر اپنا سارا کاروبارتَرْک کر دیا اور عبادت وریاضت اور علمِ دین سیکھنے میں مصروفِ عمل ہو گئے۔ چنانچہ ایک بار حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا کہ جب شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال، دافع رنج و مَلال صلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسلَّم کی بِعثت ہوئی اُس وقت میں تجارت کیا کرتا تھا۔اوّلا میں نے کوشش کی کہ میری تجارت بھی باقی رہے اور میں عبادت بھی کرتارہوں لیکن ایسانہ ہوسکا اور بالآخرمیں تجارت کوچھوڑ کر عبادت میں مشغول ہوگیا۔اُس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں ابودَرْدَاء کی جان ہے! اگر