Brailvi Books

حرص
149 - 228
 اپنے پاس رکھنے کیلئے تیّار نہیں،اورایک ہم ہیں کہ عشقِ رسول کے دعوے کے باوُجُود مال جمع کرنے کی فِکر سے ہی خَلاصی( یعنی چھٹکارا) نہیں پاتے ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۲)  میرے پاس مال جمع ہوگیا ہے
	حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی زوجہ محترمہ نے آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ پر کچھ ثقل محسوس کیا تو دریافت فرمایا :آپ کو کیا ہوا ہے؟ شاید ہم سے کوئی تکلیف پہنچی ہے اس لئے آپ ہم سے ناراض ہیں۔ آپ  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہنے ارشاد فرمایا:نہیں، تم مسلمان مرد کی اچھی بیوی ہو مگر بات یہ ہے کہ میرے پاس بہت سا مال جمع ہو گیا ہے اور میں فیصلہ نہیں کر پا رہا کہ اس کا کیا کروں؟بیوی نے کہا :اس میں غمگین ہونے کی کیا بات ہے! اپنی قوم کے لوگوں کو بلا کر وہ مال ان میں تقسیم کر دیں۔چنانچِہ آپ نے اپنے غلام سے ارشاد فرمایا :میری قوم کے لوگوں کو بلا لاؤ۔اس دن جو مال تقسیم ہُواوہ چارلاکھ درہم تھے۔
  (المعجم الکبیر، الحدیث۱۹۵،ج۱،ص۱۱۲،بتغیرٍ قلیلٍ)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۳) 300دینارواپس کردئیے
	حضرت سیِّدُنا ابو بکر بن مُنْکَدِر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ  بیان کرتے ہیں کہ ملکِ شام کے گورنرحَبِیب بن ابی سلمہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے حضرت سیِّدُنا ابو ذَر غِفَاری رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ  کے پاس تین سو 300دینار ہدیہ بھیجے اور کہا: اس سے اپنی ضروریات پوری