آفت کا ڈر ہوتا ہے،لیکن(صدقہ وخیرات کر کے)اللّٰہعَزَّوَجَلََّ کے پاس اپنا مال جمع کرانے والے کو کسی قسم کا خطرہ نہیں ہوتا۔‘‘ ( لُبابُ الاِحیاء(عربی)ص۲۳۱ ماخوذاً )
تِرے غم میں کاش عطّارؔ، رہے ہر گھڑی گرِفتار
غمِ مال سے بچانا، مَدَنی مدینے والے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
بُزرگانِ دین کا مدنی ذ ہن
زیادہ مال جمع نہ کرنے کے حوالے سے ہمارے بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ المُبِینکا کیسا مَدَنی ذِہن تھا!اس ضمن میں 8 روایات وحکایات ملاحظہ کیجئے، چنانچہ
(۱) اُحُدپہاڑجتنا سونا ہوتب بھی۔۔۔۔
حضرتِ سیِّدُناابوہُر یرہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے ، سرکارِعالَم مدار، سَخیوں کے سردار صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکا فرمانِ سَخاوت آثار ہے: ’’اگر میرے پاس اُحُد (پہاڑ)کے برابر سونا ہوتو بھی مجھے یِہی پسند ہے کہ تین راتیں نہ گزرنے پائیں کہ ان میں سے میرے پاس کچھ رہ جائے، ہاں اگر مجھ پر دَین (یعنی قرض)ہوتو اس کیلئے کچھ رکھ لوں گا۔‘‘(صحیح بُخاری ج۴ص۴۸۳حدیث۷۲۲۸)
سرکارِ مدینہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مَحبَّت کا دم بھرنے والواورسنّتوں کے ڈنکے بجانے والو!دیکھا آپ نے ؟ہمارے پیارے پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطَفٰیصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّماُحُدپہاڑکے برابر بھی سونا ہوتو اُس کو