حضرت سیدنا ابوذر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے پاس اپنے غلام کے ذریعے ایک ہزار درہموں کی تھیلی بھیجی اور غلام سے کہا :’’ اگر انہوں نے یہ تھیلی قبول کرلی تو تمہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لئے آزاد کردوں گا۔‘‘حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہکے اس طَرزِ عمل کی چند ہی جھلکیوں سے یہ بخوبی واضح ہوگیا کہ آپ کا مال اِسی قسم کے کاموں کے لئے تھا۔ (کتاب اللمع فی التصوف (مترجم)،ص ۲۰۲ماخوذاً)
اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔ ٰ امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
آزمائش میں کامیابی کی صورت
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بِلاحاجت دُنیوِی مال ودولت جمع کرنے کا جذبہ قابلِ تعریف نہیں اور جسیاللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے بکثرت دُنیوی دولت عنایت فرمائی ہو اُس کیلئے کامیابی کی صورت یِہی ہے کہ وہ اُس کواللّٰہ ورسولعَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اطاعت کے مطابِق خَرچ کر کے نیکیوں کی دولت میں اِضافہ کرے چُنانچِہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 417 صفْحات پر مُشتمِل مُنْفَرِد کتاب ’’لُبابُ ا لاِحیاء‘‘صَفْحَہ258 پر ہے: حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ رُوحُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے اِ رشاد فرمایا: ’’دُنیا کو آقا نہ بناؤ ورنہ وہ تمہیں غلام بنا لے گی، اپنا مال اُس ذات کے پاس جمع کرو جس کے پاس سے ضائِع نہیں ہوتا کیونکہ جس کے پاس دُنیا کا خزانہ ہو اُسے(چوری ہو نے یا چِھن جانے وغیرہ کی )