Brailvi Books

حرص
146 - 228
ٹھوکر ماری اور اِس کی سختیوں پر صبر کیا،اِس کا کڑوا گھونٹ بھرا ،اِس کی نعمتوں اور تَروتازگی سے بے رغبت رہے۔ بتاؤ ! کیا تم لوگ بھی ایسے ہو؟(احیاء علوم الدین،کتاب ذم البخل،ج۳،ص۳۲۸،۳۲۹)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
میں نے مال کیوں جمع کیا؟
	حضرت سیدنا عثمان غنی  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے فرمایا: میں ہرگز مال جمع نہ کرتا اگر مجھے اس بات کا خدشہ نہ ہوتا کہ کہیں اسلام میں خلل نہ پڑ جائے تو میں اس مال کے ذریعے اس خلل کو دُور کرسکوں گا۔یہی وجہ ہے کہ راہِ خدا میں مال خرچ کرنا اپنے پاس جمع رکھنے سے آپ کو زیادہ پیارا تھا مثلاً جب جَیشِ عُسْرَت(یعنی  غَزوہ تَبوک)کے لئے سازو سامان کی ضرورت پڑی تو آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے اپنے خزانوں کے منہ کھول دئیے اور 950اُونٹ ،50 گھوڑے اور 11000 اشرفیا ں بارگاہِ رسالت میں پیش کیں  ۱؎  اور جب مدینۂ منوَّرہ زادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً  میں مسلمانوں کو پانی کی تنگی ہوئی تو بئر رومہ(یعنی رومہ کا کنواں) خریدکر مسلمانوں کے لئے وَقْف کردیا۔آپ کے اِس عمل سے خوش ہو کر سرکارِ مدینہ، سلطانِ باقرینہ ، قرارِ قلب وسینہ ، فیض گنجینہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا:آج سے عثمان(رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ)جوکچھ کرے اس پر مُواخَذَہ (یعنی پوچھ گچھ)نہیں۔۲؎  ا سی طرح ایک بار حضرت سیدنا عثمان غنی  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
  ۱؎  :مراٰۃ المناجیح ج ۸ ص۵۹۳        ۲؎ : ترمذی ،ج ۵،ص ۳۹۱،حدیث ۳۷۲۰