بعض صحابہ کرام نے بھی تو مال جمع کیا تھا
اگر کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ بعض صحابہ کرام رضوانُ اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہِم اَجمعین نے بھی تو مال جمع کیا تھا اگر ہم کرلیں تو کیا قباحت ہے ؟تو اس کا جواب امام غزالی علیہ رحمۃ اللّٰہِ الوالی کی زبانی سنئے ، چنانچہ آپ لکھتے ہیں:بعض صحابہ کرام رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم کے پاس مال تھا لیکن ان کا مقصد سوال سے بچنا اورراہِ خدا میں خرچ کرنا تھا۔ انہوں نے حلال کمایا، اِعتدال کے ساتھ خرچ کیا اور اپنی آخرت کے لیے آگے بھیجا ۔ان پر جو کچھ لازِم تھا انہوں نے اسے نہ روکا اور نہ ہی بخل سے کام لیا بلکہ انہوں نے زیادہ مال اللّٰہ تعالیٰ کی رضا پانے کے لئے سخاوت سے خرچ کر دیا۔ بعض نے تو تمام مال خرچ کردیا اور تنگی کے وقت بھی اللّٰہ تعالیٰ کے حکم کو اپنی ذات پر ترجیح دی۔ اے لوگو! قسم کھا کر کہو: کیا تم بھی ایسے ہو؟ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! تم لوگوں کی ان کے ساتھ مشابَہَت بہت دُور کی بات ہے۔علاوہ ازیں جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم خالی ہاتھ رہنا پسند کرتے تھے ،وہ فَقر کے خوف سے بے نیاز تھے اور اپنے رِزْق کے سلسلے میں اللّٰہ تعالیٰ پر پورا یقین رکھتے تھے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے ان کے لیے جو کچھ مُقَدَّر فرمایا اُس پر خوش تھے۔ مصیبت و آزمائش کی حالت میں راضی، کُشادگی کی حالت میں شاکِر، تکلیف پر صابِر، خوشی میں حمدِ الٰہی بجا لانے والے تھے۔ وہ اللّٰہ تعالیٰ کے لئے تواضُع کرنے والے اور فخر وتکبُّر سے دُور رہنے والے تھے۔وہ دنیا کے مال سے مُباح کی حد تک حاصل کرتے تھے اور حاجت کی مِقدار پر راضی رہتے تھے۔ انہوں نے دنیا کو