مال آزمائش ہے
خَلْق کے رہبر، شافعِ محشر، محبوبِ دَاوَر صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ نصیحت نشان ہے:اِنَّ لِکُلِّ اُمَّۃٍ فِتْنَۃٌ وَّ فِتْنَۃُ اُ مَّتِی الْمَالُیعنی ہر اُمت کا کوئی فتنہ ہے اور میری اُمت کا فتنہ مال ہے۔
(سنن الترمذی،کتاب الزھد،باب ما جاء ان فتنۃ ھذہ الامۃ فی المال،الحدیث:۲۳۴۳،ج۴،ص۱۵۰)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں :یعنی گزشتہ اُمتوں کی آزمائشیں مختلف چیزوں سے ہوئیں،میری امت کی سخت آزمائش مال سے ہوگی۔رب تعالیٰ مال دے کر آزمائے گا کہ یہ لوگ اَب میرے رہتے ہیں یا نہیں! اکثر لوگ اِس امتحان میں ناکام ہوں گے کہ مال پا کر غافِل ہوجائیں گے۔ اِس کا تجربہ برابر ہورہا ہے، اکثر قتل و غارت، غفلت اورمال کی وجہ سے ہوتا ہے۔(مراٰۃ المناجیح،ج۷،ص۹۲)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!’’مال آزمائش ہے‘‘ یہ جاننے کے باجود آج ہمارے مُعاشَرے میں اَکثر لوگوں کے ذِہنوںپردولتوںاور خزانوں کے اَنبار جمْع کرنے کی دُھن سُوار ہے اور اِس راہِ پُرخار میں خواہ کتنی ہی تکالیف سے دوچار ہونا پڑے، پرواہ نہیں،بس! ہر وقْت دولتِ دُنیا جمع کرنے کی حِرص ہے۔
؎ مجھے مال ودولت کی آفت نے گھیرا
بچا یاالٰہی بچا یاالٰہی
(وسائل بخشش ص ۸۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد