Brailvi Books

حرص
143 - 228
انسان کا پیٹ تو مِٹّی ہی بھر سکتی ہے 
	 دوسروں کی دولتوں اور نعمتوں کو دیکھ دیکھ کر خود بھی اس کو حاصِل کرنے کی فِکْر میں گُھلتے رہنے اوردن رات اِس مقصد کے حُصول کے لئے غلط و صحیح ہر قسم کی تدبیروں میں لگے رہنے کے پیچھے حِرْص ولالچ کا جذبہ کار فرما ہوتا ہے اور یہ در حقیقت انسان کی ایک پیدائشی خصلت ہے۔چنانچہ سرکارِ مدینۂ منورہ ،سردارِ مکّہ مکرّمہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالی شان ہے :لَوْ کَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِیَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَی وَادِیًا ثَالِثًا وَلَا یَمْلَا ُٔجَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَیَتُوبُ اللّٰہُ عَلَی مَنْ تَابَیعنی اگر انسان کے لئے مال کی دو وادِیاں ہوں تو وہ تیسری وادی کی تمنّا کر ے گا اور انسان کے پیٹ کو تو صِرف مِٹّی ہی بھر سکتی ہے اور جو شخص توبہ کرتا ہے اللّٰہ تعالیٰ اُس کی توبہ قَبول فرماتا ہے۔  (صحیح مسلم ،ص۵۲۱،حدیث۱۰۴۸)
مال کی محبت بڑھتی رہتی ہے
	حریص آدمی کی کوئی مطلوبہ اِنتہا نہیں ہوتی جس پر جاکر وہ ٹھہر جائے کہ بس اب مجھے مزید مال نہیں چاہئے بلکہ عمر کے ساتھ ساتھ اُس کی حرص بھی بڑھتی رہتی ہے ، تاجدارِمدینہ،قرارِ قلب و سینہ، فیض گنجینہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکافرمانِ عالیشان ہے:جوں جوں ابنِ آدم کی عمر بڑھتی ہے تو اس کے ساتھ دوچیزیں بھی بڑھتی رہتی ہیں : (۱)مال کی محبت اور(۲)لمبی عمر کی خواہش۔ (صحیح البخاری،ج ۴ ص ۴۲۲،حدیث ۱۲۴۶ ) 
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد