Brailvi Books

حرص
142 - 228
مُعِیْل کی3 صورتیں اور ان کے احکام
	مُعِیل خود اپنے حق میں ’’مُنْفَرِد ‘‘ہے لہٰذا خوداپنی ذات کے لیے اُسے اوپر بیان کردہ اَحکام کا لحاظ رکھنا چاہئے ،جبکہ اس کے عِیال (بال بچوں وغیرہ) کی تین صُورتیں ہیں :
	{1}عِیال کی کَفالَت شَرع نے اِس پرفَرض کی، وہ ان کو تَوَکُّل و تَبَتُّل(یعنی دنیا سے کَنارہ کشی ) اور بھوک پیاس پر صبر پر مجبور نہیں کرسکتا، اپنی جان کو جتنا چاہے آزمائش میں ڈالے مگر اپنے عِیال کو خالی چھوڑنا اس پر حرام ہے ۔
	{2}وہ جس کی عِیال میں کوئی ایسا بے صبرا ہو کہ اگر اُسے فاقہ پہنچے تو مَعَاذَ اللّٰہ ربعَزَّوَجَلَّ کی شکایت کرنے لگے اگر چِہ صِرْف دل میںکرے زبان سے نہیں تواس کے لحاظ سے تو اس پر دوہرا وُجُوب ہوگا کہ قَدَرِ حاجت جَمع رکھے ۔ بے شک بَہُت سے لوگ ایسے نکلیں گے ۔
	{3}ہاںجس کی سب عِیال(یعنی بال بچّے)صابِرومُتَوَ کِّل ہوں اُسے رَوا (جائز ) ہوگا کہ سب مال راہِ خدا میں خَرچ کردے۔  (فتاوٰی رضویہ ج۱۰ ص۳۱۱تا۳۲۷ملخصًا)
نقشے کے ذریعے وضاحت:              معیل

عیال بے صبرے نہیں ہیں اور نہ ہی                       عیال میں کوءی بے                                          عیال میں سب کے سب صابر ومتوکل ہیں
بلکل صابربلکہ متوسط حالت کے ہیں                       صبرا مو جو د ہے

قدرِ حاجت مال جمع رکھنا افضل ہیں                                       قدر حاجت مال جمع رکھنے کا                                                                دوہرا وجوب ہے              سب مال راہ خدا میں خرچ کردینا جاءز ہے