کرے کہ
٭اگر جَمع نہ رکھنے میں اس کاقَلب پریشان ہو،عبادت میں توجہ اور ذِکرِ الہٰی میں خَلَل پڑے تو چوتھی قسم میں بیان کردہ مدت کے مطابق بَقَدرِ حاجت جَمع رکھنا ہی افضل ہے اور اکثر لوگ اِسی قسم کے ہیں۔
٭اگرجَمع رکھنے میں اس کا دل مُنتَشِر ہواور مال کی حفاظت یا اس کی طرف مائل ہوجائے توجمع نہ رکھنا ہی افضل ہے کہ اَصل مقصود ذِکرِ الہٰی کے لئے فارغ البال (فارِغ ہونا) ہے جو اُس میں مُخِل( خلل ڈالنے والا) ہو وُہی ممنوع ہے۔
٭اور اگر وہ اصحاب نُفُوسِ مُطْمَئِنَّہ(یعنی اہلِ اطمینان) میں سے ہوکہ مال نہ ہونے سے اُن کا دل پریشان ہو نہ مال ہونے سے اُن کی نظر پریشان ہو تو وہ بااختیار ہے کہ چاہے تو بقیہ مال صَدَقہ وخیرات کر دے یا اپنے پاس ہی رکھے۔
ضروری بات: تیسری صورت میں منفرد کے لئے حاجت سے زائد سب آمَدَنی کو بھلائی کے کاموں میں صَرف (یعنی خرچ)کر دینا لازِم ہے ، اس کے علاوہ تمام صورتوں میں حاجت سے زائد سب آمَدَنی کو بھلا ئی کے کاموں میں صَرْف (یعنی خرچ)کر دینابہرحال مطلوب (یعنی پسندیدہ)ہے اور جمع رکھنا ناپسند ومَعیوب ہے کیونکہ مال جمع کرنا لمبی اُمّید یا دُنیا سے مَحَبَّت ہی کی وجہ سے ہوگا اور یہ دونوں صورتیں اچھی نہیں ہیں۔
(اِن اقسام کا وضاحتی نقشہ اگلے صفحے پر ملاحظہ کیجئے)