ان فرائضِ دِینیہ کے لیے فارِغُ البالی (یعنی روزگار وغیرہ سے بے فکری)ہے تو اگر وہ سارا ہی مال خَرْچ کر دے گا توکام کاج کرنے کا محتاج ہو گا اور ان اُمُوریعنی ان دینی فریضوں کی ادائیگی میں خَلَل پڑے گا، لہٰذا ایسے عالم دین پر بھی ذریعۂ آمدنی کا باقی رکھنا اور آمَدَنی کا جَمع رکھنا واجِب ہے،اگر آمدنی ماہانہ آتی ہو تو ماہانہ بنیاد پر اور اگرششماہی یا سالانہ آتی ہو تو چھ ماہ یا سال کی بنیاد پر مال جمع رکھے ۔
(ii)اور اگر وہاں اور بھی عالِم یہ کام کرسکتے ہوں تو حسبِ ضَروت مال جمع کرنا اور مال کے ذرائِع باقی رکھنااگر چِہ واجِب نہیں مگر اَہَم ومُؤَکَّدْ(یعنی بے حد تاکیدی) بیشک ہے کہ علمِ دین و حمایتِ دین کے لیے خوشحالی، مال کمانے میں مشغول ہونے سے لاکھوں درجے افضل ہے ،دوسری بات یہ ہے کہ ایک سے دو اور دوسے چاربھلے ہوتے ہیں،وہ یوں کہ ایک عالم کی نظر کبھی خطا کرے تو دوسرے عُلَماء اُسے درست بات کی طرف توجہ دلا دیں گے، ایک عالم اگر بیمار پڑ جائے تو دوسرے علماء موجود ہونے کی برکت سے کام بند نہ رہے گا، لہٰذا عُلَمائے دین کی کثرت کی ضَرور حاجت ہے۔
{6} اگر کوئی شخص طلبِ علمِ دین میں مشغول ہے اور مال کمانے میں مشغول ہونا علمِ دین کی طلب میں رکاوٹ بنے گا تو اس کے لئے بھی حسبِ ضَرورت مال جمع کرنا اور مال کے ذرائِع کو باقی رکھنابَہُت اَہَم وضَروری ہے ۔
{7}جو شخص اوپر بیان کردہ قسموں سے خارج ہوتو وہ اپنی حالت پر غور