ہو کہ باقی مال اپنے پاس نہ رکھے تو اِس حالت میں منفرد کے لئے حاجت سے زائد سب آمَدَنی کو بھلا ئی کے کاموں میں صَرف (یعنی خرچ)کر دینا لازِم ہوگا۔
{4} جو ایسا بے صَبرا ہوکہ اگر اُسے فاقہ پہنچے تو مَعَاذَ اللّٰہربعَزَّوَجَلَّکی شکایت کرنے لگے اگر چِہ صِرف دل میںکرے زبان سے نہیں ،یا پھرناجائز طریقوں مَثَلاً چوری یا بھیک وغیرہ کا مرتکِب ہوتو اس پر لازِم ہے کہ حاجت کے بقَدَرجَمع رکھے، پھر اگرپیشہ وَر ہے کہ َروزکماتارَوزکھاتا ہے تو ایک دن کا،اور ملازِم ہے کہ ماہوار ملتا ہے یا مکانوں دکانوں کے کرائے پر بسر ہے کہ کرایہ مہینے بعد آتا ہے تو ایک مہینے کا اور اگر زمیندار ہے کہ چھ ماہ یا سال بعد فصل پر آمدنی ہوتی ہے تو چھ مہینے یا سال بھر کاخرچ جمع رکھے اور اصل ذَرِیعۂ مَعاش مَثَلاً کام کے اَوزاریا دکان ومکان بَقَدرِ کِفایت کا باقی رکھنا تو مُطلَقاً اس پر لازِم ہے۔
{5}اگرکوئی عالمِ دین مُفتی یا بد مذ ہبیت کوروکنے والاہے تواس کی دو صورتیں ہیں: دیکھا جائے گا کہ وہاں کوئی اور عالم دین اِس مَنْصَبِ دینی کی ذمہ داری نبھانے والا موجود ہے یانہیں ؟
(i)اگر نہ ہو تو فتویٰ دینییا دَفعِ بِدعات میں اپنے اَوقات کا صَرف کرنا اِس عالمِ دین پر فرضِ عَین ہے ،اگر ایسے عالمِ دین کے لئے بیت المال سے کوئی وظیفہ مقرر نہ ہو بلکہ وہ اپنا مال و جائداد رکھتا ہے جس کے باعث اُسے مالی طور پر مضبوطی اور