Brailvi Books

حرص
136 - 228
 کرے جتنا خرچ کرنے کی اجازت اسے اس کے رب عَزَّوَجَلَّ نے دی ہو اور اگر وہ مال کو اپنے پاس جمع رکھے تو بھی اسی قدر کہ جتنا اللّٰہ تعالیٰ نے اسے اجازت دی ہو اور وہ اس مال کی نگہداشت (یعنی دیکھ بھال)لوگوں کے حقوق کی خاطر کرے نہ کہ اپنے نفس کے لئے ، اس شخص کی حیثیت ایک خزانچی کی سی ہے جو مال میں اسی طرح تصرف کرتا ہے جس طرح اس کا مالک اسے کہتا ہے مگر انسان کا اپنی اس حیثیت کو پہچاننا بہت مشکل ہے ، بہت سے لوگ غلط فہمی میں اس مال کو صرف اپنا سمجھ بیٹھتے ہیں اور تاریک راہوں میں مارے جاتے ہیں۔ (کتاب اللمع فی التصوف (مترجم)،ص ۲۰۳ملخصاً)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
مال جَمْع کرنے ، نہ کرنے کی صورَتیں 
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مال جمع کرنا بعض صورتوں میں واجب ہے ، بعض صورتوں میں محمود اوربعض صورتوں میں مذموم وناجائز ہے ،اس بارے میں اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے جو تفصیل بیان فرمائی ہے اس کا خلاصہ اپنے الفاظ میں پیش کرنے کی کوشش کرتا ہوں اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّآپ کی معلومات میں بے حد اِضافہ ہوگا۔
آدمیوں کی دو قسمیں
	اس دنیا میں بعض لوگ وہ ہوتے ہیں جن پر دیگر افراد مثلاً بال بچوں کی