Brailvi Books

حرص
135 - 228
 پکڑ کر اپنے عمل کے ذریعے اس میں سے تریاق نکال رہا ہے تو بچے نے سمجھا کہ سپیرے نے سانپ کی شکل و صورت کو اچھااور اس کی جِلد کو نرم سمجھ کر پکڑا ہے ،چنانچہ اس بچے نے سپیرے کی نقل کرتے ہوئے سانپ کو پکڑلیا تو سانپ نے اس بچے کو ڈس لیا جس سے اس کی موت واقع ہوگئی ۔ البتہ سانپ اور مال میں باریک سا فرق یہ ہے کہ سانپ کے ڈسنے سے ہلاک ہونے والے کو اپنی غلطی کا احساس ہوجاتا ہے لیکن جو شخص مال سے ہلاک ہوتا ہے اسے پتابھی نہیں چلتا۔ دنیا کو بھی سانپ سے تشبیہ دی گئی ہے،چنانچہ منقول ہے : ’’ھِیَ دُنْیَا کَحَــیَّــۃٍ تَنْفُثُ السَّمَّ وَاِنْ کَانَتِ الْمُجَسَّۃُ لَانَت یعنی یہ دنیا سانپ کی طرح ہے جو زہر اُگلتا ہے اگرچہ اس کا جسم نرم ہوتا ہے۔‘‘جس طرح نابینا آدمی کا دیکھنے والے کی مشابہت میں پہاڑوں کی چوٹیوں اور دریاؤں کے کناروں تک پہنچنا نیز کانٹے دار راستوں سے گزرنا ناممکن ہے اسی طرح مال حاصل کرنے کے سلسلے میں عام آدمی کا کسی کامل عالم کی مشابہت اختیار کرنا بھی دشوار ترین ہے۔
(احیاء علوم الدین،کتاب ذم البخل وذم حب المال،ج۳،ص۳۲۵ ملخصًا)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
ہماری حیثیت ایک خزانچی کی سی ہے
	حضرت سیدنا سہل بن عبداللّٰہ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے فرمایا: کثرتِ مال اس کے لئے رَوا(یعنی مناسب) ہے جو اذنِ خداوندی کو جانتا ہوکہ اپنا مال اسی قدر خرچ