Brailvi Books

حرص
134 - 228
بھی عبادت ہو گا۔اسی طرح جو چیزیں انسان کی حفاظت کرتی ہیں مثلاً لباس، بستر اور برتن وغیرہ ، ان میں بھی اچھی نیت ہونی چاہیے کیونکہ دین کے سلسلے میں ان تمام چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے اور جو کچھ ضرورت سے زائد ہو اس سے بندگانِ خدا کو نفع پہنچانے کی نیت ہونی چاہیے اور جب کسی شخص کو اس کی ضرورت ہو تو انکار نہیں کرنا چاہئے۔
	 جو شخص ان(پانچ) ذمہ داریوں کو پورا کرے گا، اس نے مال کے سانپ سے اس کا جَوہر اور تریاق لے لیا اور زہر سے محفوظ رہا، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ  ایسے شخص کو مال کی کثرت نقصان نہیں پہنچائے گی۔(احیاء علوم الدین،کتاب ذم البخل وذم حب المال،ج۳،ص۳۲۴تا۳۲۵ملخصًا)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !     صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
یہ ذمہ داریاں کون پوری کرسکتا ہے؟
	یہ پانچ ذمہ داریاں وہی شخص نبھا سکتا ہے جو اتنا علم رکھتا ہو کہ مال کے حقوق ادا کرسکے اور اس کے فتنوں کو پہچان کر ان سے بچ سکے ۔چنانچہ امام غزالی علیہ رحمۃ اللّٰہِ الوالی مزید لکھتے ہیں: لیکن یہ ذمہ داریاں وہی شخص پوری کرسکتا ہے جس کا ایمان مضبوط اور علم زیادہ ہو۔عام آدمی جب زیادہ مال حاصل کرنے میں کسی عالم سے مُشابَہَت اختیار کرتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ وہ مالدار صحابہ کرام رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم اجمعین کے مشابہ ہے تو وہ اس بچے کی طرح ہے جس نے کسی ماہرسپیرے کو دیکھا کہ وہ سانپ کو