Brailvi Books

حرص
133 - 228
 کرے جو اس کی مُرَوَّت کو نقصان پہنچاتے ہیں جیسے وہ تحائف جن میں رشوت کا شائبہ ہو، اور ایساسوال کرنا جس کی وجہ سے ذلت اٹھانا پڑتی ہے اور مُرَوَّت ختم ہوجاتی ہے۔
	{۳}یہ دیکھے کہ مال کتنی مقدار میں کمانا ہے؟ اور اس کا معیار حاجت ہے مثلاًلباس، رہائش اور کھانے کی ہرانسان کو حاجت ہوتی ہے اور ان میں سے ہر ایک کے تین درجے ہیں: (۱)اَدنیٰ (۲)درمیانہ اور(۳) اَعلیٰ ۔
	{۴}مال کہاں خرچ کر رہا ہے اس کا خیال رکھے اور خرچ کرنے میں میانہ رَوِی اختیار کرے، نہ تو ضرورت سے زیادہ خرچ کرے اور نہ کم۔
	{۵}مال لینے دینے، خرچ کرنے اور جمع کرنے میں نیت صحیح ہونی چاہیے، اس لئے مال حاصل کرے کہ عبادت پر مدد حاصل ہو اور مال چھوڑنا ہو تو زُہد کی نیت سے اور اسے حقیر سمجھتے ہوئے چھوڑے جب یہ طریقہ اختیار کرے گا تو مال کا موجود ہونا اسے نقصان نہیں پہنچائے گا۔ اسی لیے امیرُالْمُؤمِنِینحضرتِ مولائے کائنات، علیُّ المُرتَضٰی شیر ِخدا کَرَّمَ اللّٰہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا:’’ اگر کوئی شخص تمام رُوئے زمین کا مال حاصل کرے اور اس کا اِرادہ رضائے خداوندی کا حُصول ہو تو وہ زاہِد ہے اور اگر سارا مال چھوڑ دے لیکن رضائے خداوندی مقصود نہ ہو تو وہ زاہِد نہیں ہے۔‘‘ چنانچہ ہماری تمام حرکات و سکنات اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہونی چاہئیں ۔ کھانا عبادت پر مددگار ہے،چنانچہ جب کھانے سے مقصود عبادت میں مدد حاصل کرنا ہوگا تو یہ