بچّھو ہیں اگر تم اِس کے زَہر کا اُتار نہیں جانتے تو اسے مت پکڑو کیوں کہ اگر اس نے ڈس لیا تو اس کا زَہر تمہیں ہلاک کر دے گا۔عرض کی گئی: اِس کا اُتار کیا ہے؟ فرمایا: حلال طریقے سے حاصِل کرنا اور اس کے حقوقِ واجِبہ ادا کرنا۔ (اِحیا ء العُلوم ،ج۳،ص۲۸۸)
حُبِّ دنیا سے تُو بچا یا ربّ!
اپنا شیدا مجھے بنا یا ربّ!
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
مال کے حوالے سے انسان کی پانچ ذمہ داریاں
حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمد غزالی علیہ رحمۃُ اللّٰہ الوالی اِحْیَاءُالعُلُوْممیں فرماتے ہیں: مال کئی صورتوں میں اچھا ہے اور کئی صورتوں میں بُرا، یہ سانپ کی مثل ہے سپیرا اس کو پکڑ کر اس سے تِریاق(یعنی زہر کا علاج )نکالتا ہے لیکن اناڑی آدمی پکڑے گا تو سانپ کا زہرا سے ہلاک کردے گا ۔بہرحال مال کے زہر سے وہی شخص بچ سکتا ہے جو(درج ذیل) پانچ ذمہ داریوں کو پوراکرے:
{۱}مال کے مقصد کو سمجھے کہ اسے کس مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے اور اس کی حاجت کیوں ہوتی ہے؟ اِس صورت میں وہ بقدرِ ضَرورت کمائے گا اوربقدرِحاجت مال کو محفوظ رکھے گا یوں وہ مال کمانے پر اتنی ہی محنت کرے گا جتنی کرنی چاہئے ۔
{۲}ذریعۂ آمدنی کا خیال رکھے ،حرام اور ایسے مکروہ طریقوں سے بھی پرہیز